طلعت شبیر ۔۔۔ ہجر کا بھی امکان کہاں تھا

ہجر کا بھی امکان کہاں تھا
وصل کا بھی ارمان کہاں تھا

ہر آواز پہ لوٹ آیا تھا
مجھ جیسا نادان کہاں تھا

کوفہ والے بدل گئے تھے
جو کہتے تھے مان کہاں تھا

وصل کے منظر لکھنا چاہے
ہجر مرا عنوان کہاں تھا

تو میری پہچان ہوا ہے
میں تیری پہچان کہاں تھا

تم تو اِک انمول رتن تھے
عشق کا یہ تاوان کہاں تھا

صحرا صحرا گزر ہوا ہے
رخت کہاں ، سامان کہاں تھا

Related posts

Leave a Comment